دوسرا:حِزقی ایل نبی کا بیان(حِزقی ایل٦:٧تا ٨)
5: خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ ایک بلا یعنی بلایِ عظِیم! دیکھ وہ آتی ہے۔
6:(نمبر: 1- وہ دِن قریب ہے )خاتِمہ آیا ۔ خاتِمہ آ گیا ۔ وہ تُجھ پر آ پُہنچا ۔ دیکھ وہ آ پُہنچا۔
7:اَے (نمبر: 2- قوموں کی سزا کا دِن ) زمِین پر بسنے والے تیری شامت آ گئی ۔ وقت آ پُہنچا ۔ ہنگامہ کا دِن قرِیب ہُؤا ۔ (نمبر: 3- یہ ہنگامہ اور فتح اور کوشی کا نہ ہو گا ) یہ پہاڑوں پر خُوشی کی للکار کا دِن نہیں۔
8:اب مَیں(نمبر: 4- خُداوند اُس دِن) اپنا قہر تُجھ پر اُنڈیلنے کو ہوں اور اپنا غضب تُجھ پر پُورا کرُوں گا(نمبر:5- وہ دِن عدالت کا ہے )اور تیری روِش کے مُطابِق تیری عدالت کرُوں گا اور تیرے سب گِھنَونے کاموں کی سزا تُجھ پر لاؤُں گا۔
تیسرا : یرمیاہ نبی کا بیان (یرمیاہ:46: 10)
10: (نمبر:1 )کیونکہ یہ خُداوند ربُّ الافواج کا دِن یعنی اِنتقام کا روز ہے
تاکہ وہ اپنے دُشمنوں سے اِنتقام لے ۔(نمبر:2 بہت لوگ قتلوں ہونگے)پس تلوار کھا جائے گی اور سیر ہو گی اور اُن کے خُون سے مست ہو گی کیونکہ خُداوند ربُّ الافواج کے لِئے شِمالی سرزمِین میں دریایِ فُرا ت کے کنارے ایک ذبِیحہ ہے۔
(یرمیاہ:30: 7 تا 9)
7: (نمبر:3 )افسوس! وہ دِن بڑا ہے ۔ اُس کی مِثال نہیں ۔
(نمبر:4 اسرا ئیل مصیبت آئیگی خُداوند اُنکو بچائیگا )وہ یعقُو ب کی مُصِیبت کا وقت ہے پر وہ اُس سے رہائی پائے گا۔
8:(نمبر:2 اسرا ئیلی لوگ آزاد ہونگے)اور اُس روز یُوں ہو گا ربُّ الافواج فرماتا ہے کہ مَیں اُس کا جُؤا تیری گردن پر سے توڑُوں گا اور تیرے بندھنوں کو کھول ڈالُوں گا اور بیگانے پِھر تُجھ سے خِدمت نہ کرائیں گے۔
9:پر وہ خُداوند اپنے خُدا کی اور اپنے بادشاہ داؤُد کی جِسے مَیں اُن کے لِئے برپا کرُوں گا خِدمت کریں گے۔
چوتھا : یوایل نبی کا بیان(یوایل 10:1)
10: (نمبر: 1- وہ دِن افسوس کا ہے)اُس روز پر افسوس!
(نمبر: 2- وہ دِن قریب ہے )کیونکہ خُداوند کا روز نزدِیک ہے ۔
(یوایل : 1:2، 2، 31،30،11،10)
1: صِیُّون میں نرسِنگا پُھونکو ۔
میرے کوہِ مُقدّس پرسانس باندھ کر زور سے پُھونکو ۔
مُلک کے تمام باشِندے تھرتھرائیں
کیونکہ خُداوند کا روز چلا آتا ہے بلکہ آ پُہنچا ہے۔
2: (نمبر: 3) اندھیرے اور تارِیکی کا روز ۔
(نمبر: 4) ابرِ سِیاہ اور ظُلمات کا روز ہے ۔
ایک بڑی اور زبردست اُمّت
جِس کی مانِند نہ کبھی ہُوئی
اور نہ سالہایِ دراز تک اُس کے بعد ہو گی
پہاڑوں پر صُبح صادِق کی طرح پَھیل جائے گی۔
10:(نمبر:5) اُن کے سامنے زمِین و آسمان کانپتے اور تھرتھراتے ہیں ۔
(نمبر: 4)سُورج اور چاند تارِیک اور سِتارے بے نُور ہو جاتے ہیں۔
11:اور خُداوند اپنے لشکر کے سامنے للکارتا ہے
کیونکہ اُس کا لشکر بے شُمار ہے اور اُس کے حُکم
کو انجام دینے والا زبردست ہےکیونکہ
(نمبر: 6) خُداوند کا روزِ عظِیم نِہایت خَوفناک ہے ۔
کَون اُس کی برداشت کر سکتا ہے؟۔
30: (نمبر: 7) اور مَیں زمِین و آسمان میں عجائِب ظاہِر کرُوں گا
یعنی خُو ن اور آگ اور دُھوئیں کے سُتُون۔
31:اِس سے پیشتر کہ خُداوند کا خَوفناک روزِ عظِیم آئے
آفتاب تارِیک
اور مہتاب خُون ہو جائے گا۔
(یوایل 16،15،14:3)
14:گروہ پر گروہ اِنفصا ل کی وادی میں ہے
کیونکہ خُداوندکا دِن اِنفصا ل کی وادی میں آ پُہنچا۔
15:(نمبر: 4)سُورج اور چاند تارِیک ہو جائیں گے
اور سِتاروں کا چمکنا بند ہو جائے گا۔
16کیونکہ خُداوندصِیّوُن سے نعرہ مارے گا
اور یروشلیِم سے آواز بُلند کرے گا
اور(نمبر:5) آسمان و زمِین کانپیں گے
(نمبر: 7-خُداوند اسرا ئیل کا محافظ ہو گا)لیکن خُداوند اپنے لوگوں کی پناہ گاہ اور
بنی اِسرائیل کا قلعہ ہے۔
پنچواں : عا موس نبی کا بیان(عاموس 20،19،18:5)
18:(نمبر: 1)تُم پر افسوس جو خُداوند کے دِن کی آرزُو کرتے ہو!
تُم خُداوند کے دِن کی آرزُو کیوں کرتے ہو؟
(نمبر: 2)وہ تو تارِیکی کا دِن ہے ۔ روشنی کا نہیں۔
19:(نمبر: 3- گھر یا گھر سے باہر لوگ محفُوظ نہ ہونگے )جَیسے کوئی شیرِ بَبر سے بھاگے اور رِیچھ اُسے مِلے یا گھر میں جا کر اپنا ہاتھ دِیوار پر رکھّے اور اُسے سانپ کاٹ لے۔
20: کیا خُداوند کا دِن تارِیکی نہ ہو گا؟ اُس میں روشنی نہ ہو گی بلکہ سخت ظُلمت ہو گی اور نُور مُطلق نہ ہو گا۔
چھٹہ : عبدیاہ نبی کا بیان( عبدیاہ 15:1)
(خُداوند نے عبدیاہ پر طاہر کیا وہ دن نہ صرف اسرا ائیل پر بلکہ سب قوموں پر آئگا)
15کیونکہ سب قَوموں پر خُداوند کا دِن آ پُہنچا ہے۔
جَیسا تُو نے کِیا ہے وَیسا ہی تُجھ سے کِیا
جائے گا ۔ تیرا کِیا تیرے سر پر آئے گا۔
ساتواں : صفنیاہ نبی کا بیان (صفنیاہ 1: 7 تا 18)
7تُم خُداوند خُدا کے حضُور خاموش رہو کیونکہ (نمبر: 1)خُداوند کا دِن نزدِیک ہے اور اُس نے ذبِیحہ تیّار کِیا ہے اور اپنے مِہمانوں کو مخصُوص کِیا ہے۔
8(نمبر:2-اُس دن بہت سے لوگ ذبِیحہ کئے جائیں گےاور اُن کو سزا ملے گی )
اور خُداوند کے ذبِیحہ کے دِن یُوں ہو گا کہ مَیں اُمرا اور شاہزادوں کو اور اُن سب کو جو اجنبیوں کی پوشاک پہِنتے ہیں سزا دُوں گا۔
9مَیں اُسی روز اُن سب کو جو لوگوں کے گھروں میں گُھس کر اپنے آقا کے گھر کو لُوٹ اور مکر سے بھرتے ہیں سزا دُوں گا۔
10اور خُداوند فرماتا ہے اُسی روز(نمبر:3-یروشلیم کے قریب بڑا ماتم ہو گا) مچھلی پھاٹک سے رونے کی آواز اور مِشنہ(مشنہ یروشلیم کا محلّہ ) سے ماتم کی اور ٹِیلوں پر سے بڑے غَوغا کی صدا اُٹھے گی۔
11اَے مکتِیس کے رہنے والو! ماتم کرو کیونکہ سب سَوداگر مارے گئے ۔ جو چاندی سے لدے تھے سب ہلاک ہُوئے۔
12پِھر مَیں چراغ لے کر یروشلیِم میں تلاش کرُوں گا اور جِتنے اپنی تلچھٹ پر جم گئے ہیں اور دِل میں کہتے ہیں کہ خُداوند سزا و جزا نہ دے گا اُن کو سزا دُوں گا۔ 13(نمبر: 4-اُس دِن لوگوں کیلئے بھلائی نہ ہوگی )تب اُن کا مال لُٹ جائے گا اور اُن کے گھر اُجڑ جائیں گے ۔ وہ گھر تو بنائیں گے پر اُن میں بُود و باش نہ کریں گے اور تاکِستان لگائیں گے پر اُن کی مَے نہ پِئیں گے۔
14(نمبر: 1)خُداوند کا روزِ عظِیم قرِیب ہے ہاں وہ نزدِیک آ گیا۔ وہ آ پُہنچا! سُنو! خُداوند کے دِن کا شور! زبردست آدمی پُھوٹ پُھوٹ کر روئے گا۔
15(نمبر: 5)وہ دِن قہر کا دِن ہے ۔(نمبر: 6) دُکھ اور رنج کا دِن۔(نمبر: 7)وِیرانی اور خرابی کا دِن ۔(نمبر: 8)تارِیکی اور اُداسی کا دِن۔(نمبر: 9) ا بر اور تِیرگی کا دِن۔ 16(نمبر: 10)حصِین شہروں اور اُونچے بُرجوں کے خِلاف نرسِنگے اور جنگی للکار کا دِن۔
17اور مَیں بنی آدم پر مُصِیبت لاؤُں گا یہاں تک کہ وہ اندھوں کی مانِند چلیں گے کیونکہ وہ خُداوند کے گُنہگار ہُوئے ۔ اُن کا خُون دُھول کی طرح گِرایا جائے گا اور اُن کا گوشت نجاست کی مانِند۔
18خُداوند کے قہر کے دِن اُن کا سونا چاندی اُن کو بچا نہ سکے گا بلکہ
(نمبر: 11- اُس دِن)تمام مُلک کو اُس کی غَیرت کی آگ کھا جائے گی کیونکہ وہ یک لخت مُلک کے سب باشِندوں کو تمام کر ڈالے گا۔
آٹھواں: زکریاہ نبی کا بیان زکریاہ 14: 1 تا 11
1دیکھ خُداوند کا دِن آتا ہے جب تیرا مال لُوٹ کر تیرے اندر بانٹا جائے گا۔
2کیونکہ(نمبر: 1)مَیں سب قَوموں کو فراہم کرُوں گا کہ یروشلیِم سے جنگ کریں اور شہر لے لِیا جائے گا اور
(نمبر: 2) گھر لُوٹے جائیں گے اور
(نمبر:3) عَورتیں بے حُرمت کی جائیں گیاور
(نمبر: 4) آدھا شہر اسِیری میں جائے گا لیکن
(نمبر: 5)باقی لوگ شہر ہی میں رہیں گے۔
3(نمبر: 6)تب خُداوند خُرُوج کرے گا اور اُن قَوموں سے لڑے گا جَیسے جنگ کے دِن لڑا کرتا تھا۔
4(نمبر: 7)اور اُس روز وہ کوہِ زَیتُون پر جو یروشلیِم کے مشرِق میں واقِع ہے کھڑا ہو گا اور
(نمبر: 8) کوہِ زَیتُون بِیچ سے پھٹ جائے گا اور
(نمبر: 9)اُس کے مشرِق سے مغرِب تک ایک بڑی وادی ہو جائے گی کیونکہ
(نمبر: 10)آدھا پہاڑ شِمال کو سرک جائے گا اور آدھا جنُوب کو۔
5(نمبر: 11)اور تُم میرے پہاڑوں کی وادی سے ہو کر بھاگو گے کیونکہ پہاڑوں کی وادی آضل تک ہو گی ۔ جِس طرح تُم شاہِ یہُوداہ عُزّیاہ کے ایّام میں زلزلہ سے بھاگے تھے اُسی طرح بھاگو گے کیونکہ
(نمبر: 12)خُداوند میرا خُدا آئے گا اور سب قُدسی تیرے ساتھ ۔
6اور(نمبر: 13) اُس روز رَوشنی نہ ہو گی اوراجرامِ فلک چُھپ جائیں گے۔
7(نمبر: 14)پرایک دِن اَیسا آئے گا جو خُداوند ہی کو معلُوم ہے ۔ وہ نہ دِن ہو گا نہ رات لیکن شام کے وقت رَوشنی ہو گی۔
8اور(نمبر: 15) اُس روز یروشلیِم سے آبِ حیات جاری ہوگا جِس کا
(نمبر: 16) آدھا بحرِ مشرِق کی طرف بہے گا اور آدھا بحرِ مغرِب کی طرف ۔
(نمبر: 17)گرمی سردی میں جاری رہے گا۔
9اور(نمبر: 18) خُداوند ساری دُنیا کا بادشاہ ہو گا ۔ اُس روز ایک ہی خُداوند ہو گا اور اُس کا نام واحِد ہو گا۔
10اور(نمبر: 19) یروشلیِم کے جنُوب میں تمام مُلک جِبع سے رِمُّون تک مَیدان کی مانِند ہو جائے گا پر
(نمبر: 20) یروشلیِم بُلند ہو گا اور بِنیمِین کے پھاٹک سے پہلے پھاٹک کے مقام یعنی کونے کے پھاٹک تک اور حنن ا یل کے بُرج سے بادشاہ کے انگُوری حَوضوں تک اپنے مقام پر آباد ہو گا۔
11اور(نمبر: 21) لوگ اِس میں سکُونت کریں گے اور پِھر لَعنت مُطلق نہ ہو گی بلکہ
(نمبر: 22) یروشلیِم امن وامان سے آباد رہے گا۔
نواں: ملاکی نبی کا بیان (ملاکی4: 1 تا 5)
1(نمبر:1-وہ دِن آگ کی مانند ہے)کیونکہ دیکھو وہ دِن آتا ہے جو بھٹّی کی مانِند سوزان ہو گا ۔(نمبر: 2- لوگوں جلائے جائیں گے) تب سب مغرُور اور بدکردار بُھوسے کی مانِند ہوں گے اور
وہ دِن اُن کو اَیسا جلائے گا کہ شاخ و بُن کُچھ نہ چھوڑے گا ربُّ الافواج فرماتا ہے۔
2لیکن(نمبر:2-خُداوند کے لوگوں( اسرا ائیل)کیلئےامین وامان) تُم پر جو میرے نام کی تعظِیم کرتے ہو آفتابِ صداقت طالع ہوگا اور اُس کی کِرنوں میں شِفا ہو گی اور تُم گاوخانہ کے بچھڑوں کی طرح کُودو پھاندو گے۔
3اور تُم شرِیروں کو پایمال کرو گے کیونکہ اُس روز وہ تُمہارے پاؤں تلے کی راکھ ہوں گے ربُّ الافواج فرماتا ہے۔
4تُم میرے بندہ مُوسیٰ کی شرِیعت یعنی اُن فرائِض و احکام کو جو مَیں نے حور ب پر تمام بنی اِسرائیل کے لِئے فرمائے یاد رکھّو۔
5(نمبر:4)دیکھو خُداوند کے بزُرگ اور ہَولناک دِن کے آنے سے پیشتر مَیں ایلیّاہ نبی کو تُمہارے پاس بھیجُوں گا۔
تحریر ابھی جاری ہے !